راستہ سمندر کا جب رکا ہوا پایا

منظور ہاشمی

راستہ سمندر کا جب رکا ہوا پایا

منظور ہاشمی

MORE BYمنظور ہاشمی

    راستہ سمندر کا جب رکا ہوا پایا

    اور بھی کناروں کو کاٹتا ہوا پایا

    دیر تک ہنسا تھا میں دوستوں کی محفل میں

    لوٹ کر نہ جانے کیوں دل دکھا ہوا پایا

    دھوپ نے ٹٹولا جب منجمد چٹانوں کو

    برف کے تلے لاوا کھولتا ہوا پایا

    سوچیے کہیں گے کیا لوگ ایسے موسم کو

    جس میں سبز شاخوں کو سوکھتا ہوا پایا

    میرے واسطے شاید خط میں تھا وہی جملہ

    تیز روشنائی سے جو کٹا ہوا پایا

    نیند کی پری آخر ہو گئی خفا ہم سے

    اور کوئی آنکھوں میں جب چھپا ہوا پایا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY