رات بھر خواب کے دریا میں سویرا دیکھا

وحید اختر

رات بھر خواب کے دریا میں سویرا دیکھا

وحید اختر

MORE BYوحید اختر

    رات بھر خواب کے دریا میں سویرا دیکھا

    دن کے ساحل پہ جو اترے تو اندھیرا دیکھا

    خود کو لکھا بھی ہے میں نے ہی مٹایا بھی ہے خود

    قلم غیر نے سایہ بھی نہ میرا دیکھا

    جن کے چہروں پہ چمک نور کا ہالا اطراف

    ان کے ذہنوں کو جو کھولا تو اندھیرا دیکھا

    جن کے تیشوں کو رہا کوہ کنی کا دعویٰ

    انہیں محلوں کا بھی کرتے ہوئے پھیرا دیکھا

    جو مجھے دینے کو آتے تھے غم اپنے اکثر

    ان کی خوشیوں نے کبھی گھر بھی نہ میرا دیکھا

    عمر کل گزری تھی پڑھتے ہوئے چہرہ تیرا

    آج ڈھونڈا تو کہیں عکس نہ تیرا دیکھا

    جو مجھے برگ خزاں سمجھی تھیں ان آنکھوں نے

    نام اوراق بہاراں پہ بھی میرا دیکھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    رات بھر خواب کے دریا میں سویرا دیکھا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY