رات ڈھلتے ہی سفیران قمر آتے ہیں

حنیف فوق

رات ڈھلتے ہی سفیران قمر آتے ہیں

حنیف فوق

MORE BYحنیف فوق

    رات ڈھلتے ہی سفیران قمر آتے ہیں

    دل کے آئینے میں سو عکس اتر آتے ہیں

    سیل مہتاب سے جب نقش ابھر آتے ہیں

    اوس گرتی ہے تو پیغام شرر آتے ہیں

    ساعت دید کا گلزار ہو یا سایۂ دار

    ایسے کتنے ہی مقامات سفر آتے ہیں

    جاگتی آنکھوں نے جن لمحوں کو بکھرا دیکھا

    وہی لمحے مرے خوابوں میں نکھر آتے ہیں

    وقت کی لاش پہ رونے کو جگر ہے کس کا

    کس جنازے کو لیے اہل نظر آتے ہیں

    رات کی بات ہی کیا رات گئی بات گئی

    رات کے خواب کہیں دن کو نظر آتے ہیں

    وادیٔ غرب سے پیہم ہے اندھیروں کا نزول

    مطلع شرق سے پیغام سحر آتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY