رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے

فیضی

رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے

فیضی

MORE BYفیضی

    رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے

    یہ مری آنکھ کا آنسو ہی ستارا ہے مجھے

    میں کسی دھیان میں بیٹھا ہوں مجھے کیا معلوم

    ایک آہٹ نے کئی بار پکارا ہے مجھے

    آنکھ سے گرد ہٹاتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں

    اپنے بکھرے ہوئے ملبے کا نظارا ہے مجھے

    اے مرے لاڈلے اے ناز کے پالے ہوئے دل

    تو نے کس کوئے ملامت سے گزارا ہے مجھے

    میں تو اب جیسے بھی گزرے گی گزاروں گا یہاں

    تم کہاں جاؤ گے دھڑکا تو تمہارا ہے مجھے

    تو نے کیا کھول کے رکھ دی ہے لپیٹی ہوئی عمر

    تو نے کن آخری لمحوں میں پکارا ہے مجھے

    میں کہاں جاتا تھا اس بزم نظر بازاں میں

    لیکن اب کے ترے ابرو کا اشارا ہے مجھے

    جانے میں کون تھا لوگوں سے بھری دنیا میں

    میری تنہائی نے شیشے میں اتارا ہے مجھے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY