رات جب تک مرے پہلو میں وہ دل دار نہ تھا

جرأت قلندر بخش

رات جب تک مرے پہلو میں وہ دل دار نہ تھا

جرأت قلندر بخش

MORE BY جرأت قلندر بخش

    رات جب تک مرے پہلو میں وہ دل دار نہ تھا

    دل کو مجھ سے مجھے کچھ دل سے سروکار نہ تھا

    گرد اس کوچے کے کس دن یہ گناہ گار نہ تھا

    واے حسرت کہ کوئی رخنہ بہ دیوار نہ تھا

    کل تو بیمار کو تھا تیرے نہ بستر پہ قرار

    آج بستر تھا فقط اور وہ بیمار نہ تھا

    شکر اے باد فنا جوں شجر سوختہ میں

    تھا تو گلشن میں ولے قابل گل زار نہ تھا

    نہیں تل دھرنے کی جاگہ جو بہ افزونیٔ حسن

    دیکھا شب اس کو تو اک خال بہ رخسار نہ تھا

    رات کیا بات تھی بتلا ترے صدقے جاؤں

    آہیں بھرنا وہ ترا خالی از اسرار نہ تھا

    دل کو دھر نوک سناں پر وہ یہ بولا ہنس کے

    ہم نے منصور کو دیکھا بہ سر دار نہ تھا

    بحث میں چشم تر و ابر کی کل تھا جو سماں

    کبھی اس شکل سے رونے کا بندھا تار نہ تھا

    ذبح ہم سامنے ہوتے ہی ہوئے قاتل کے

    باوجودیکہ کوئی ہاتھ میں ہتھیار نہ تھا

    بعد مردن مرے تابوت پہ سب روتے تھے

    چشم پر آب مگر اک وہ ستم گار نہ تھا

    لیک کیا منہ کو چھپاتا تھا جو کہتے تھے یہ لوگ

    اس کو ظاہر میں تو مرنے کا کچھ آزار نہ تھا

    طبع کہہ اور غزل، ہے یہ نظیریؔ کا جواب

    ریختہ یہ جو پڑھا قابل اظہار نہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY