رات کاٹی ہے جاگ کر بابا

حامد سروش

رات کاٹی ہے جاگ کر بابا

حامد سروش

MORE BYحامد سروش

    رات کاٹی ہے جاگ کر بابا

    دن گزارا ہے دار پر بابا

    ہاتھ آیا نہ روشنی کا سراب

    دور تھا چاند کا نگر بابا

    اپنے مرکز سے دور ہو کر ہم

    ہو گئے اور در بدر بابا

    چوٹ کھا کر سنبھل نہ پائے ہم

    پھول پھینکا تھا تاک کر بابا

    ہم فقیروں میں مل کے بیٹھ کبھی

    تخت طاؤس سے اتر بابا

    راستوں کے عذاب سے ڈر کر

    یوں نہ ہر ہر قدم پہ مر بابا

    تھی دھنک دور آسمانوں میں

    اور ہم تھے شکستہ پر بابا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY