رات کے اندھیروں کو روشنی وہ کیا دے گا

ساغرؔ اعظمی

رات کے اندھیروں کو روشنی وہ کیا دے گا

ساغرؔ اعظمی

MORE BYساغرؔ اعظمی

    رات کے اندھیروں کو روشنی وہ کیا دے گا

    اک دیا جلائے گا سو دیے بجھا دے گا

    مدتیں ہوئی مجھ سے گھر چھڑا دیا میرا

    کیا زمانہ اب تیرا ساتھ بھی چھڑا دے گا

    سب کے نقلی چہرے ہیں سب کا ایک عالم ہے

    کوئی اس زمانے میں کس کو آئنا دے گا

    میں ابھی تو مجرم ہوں آپ اپنا قاتل ہوں

    کانپ اٹھے گا منصف بھی جب مجھے سزا دے گا

    جو دیا تعصب کا تم جلا کے آئے ہو

    صبح تک نہ جانے وہ کتنے گھر جلا دے گا

    جانتا ہوں میں اس کی سادگی و معصومی

    وہ مرا کبوتر بھی ہاتھ سے اڑا دے گا

    اس کے پاس موتی ہیں میرے پاس آنسو ہیں

    میں ابھی سے کیا کہہ دوں کون کس کو کیا دے گا

    اس سے اب جو پوچھوں گا اس کا حال اے ساغرؔ

    کوئی شعر میرا ہی وہ مجھے سنا دے گا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    رات کے اندھیروں کو روشنی وہ کیا دے گا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY