رات کے در پہ یہ دستک یہ مسلسل دستک (ردیف .. ے)

حنیف فوق

رات کے در پہ یہ دستک یہ مسلسل دستک (ردیف .. ے)

حنیف فوق

MORE BYحنیف فوق

    رات کے در پہ یہ دستک یہ مسلسل دستک

    آمد صبح فروزاں کا پتا دیتی ہے

    پھونک ڈالے گی یہ اک روز قبائے صیاد

    آتش گل کو صبا اور ہوا دیتی ہے

    تیرگی زادوں سے کب نور کا سیلاب تھمے

    فیصلہ وقت کا تاریخ سنا دیتی ہے

    آنچ آتی ہے ستاروں سے جو کچھ پچھلے پہر

    خواب شیریں سے نگاروں کو جگا دیتی ہے

    کتنی نادیدہ بہاروں کی تمنائے جواں

    دامن جاں میں مرے آگ لگا دیتی ہے

    سینۂ سنگ میں بیتاب ہے وہ کاوش شوق

    جو حقیقت کو بھی خوابوں کی ضیا دیتی ہے

    شمع محراب وفا بن کے حیات‌ رسوا

    دل نگاری کا مری کچھ تو صلا دیتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY