رات تحریروں کی اب یکسر خیالی ہو گئی

علی عباس امید

رات تحریروں کی اب یکسر خیالی ہو گئی

علی عباس امید

MORE BYعلی عباس امید

    رات تحریروں کی اب یکسر خیالی ہو گئی

    لفظ جب جاگے عبارت بھی نرالی ہو گئی

    انگنت چہرے تھے شہر دل میں لیکن کیا کہوں

    وقت کا سایہ پڑا بستی یہ خالی ہو گئی

    جن کا اک اک لفظ تھا مژدہ نئے موسم کے نام

    حیف ان صفحات کی صورت بھی کالی ہو گئی

    دل کے محبس سے چلے تھے قافلے یادوں کے پر

    اک کرن پلکوں کی سولی پر سوالی ہو گئی

    ہم سفر شائستگی تھی رہ گزار زیست میں

    پھر بھی جس سے بات کی ہر بات گالی ہو گئی

    حادثوں کی دھند سے فن کار نے جس کو گڑھا

    شکر ہے اس بت کی پیشانی اجالی ہو گئی

    کیسے اس موسم کو دور گل کہوں امیدؔ میں

    رنگ سے محروم جب اک ایک ڈالی ہو گئی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY