رات یادوں کی برکھا برستی رہی دھیان بچھڑے زمانوں کا آتا رہا
رات یادوں کی برکھا برستی رہی دھیان بچھڑے زمانوں کا آتا رہا
آنکھ میں راکھ بیتے دنوں کی لئے میں گئے موسموں کو بلاتا رہا
شہر سے دشت میں دشت سے شہر میں لہر سی اک ملاتا ہوا لہر میں
میں سر شہر جاں رقص کرتا رہا میں سر دشت دل خاک اڑاتا رہا
آنکھ میں در کھلا تھا طلسمات کا بھید کھلتا نہ تھا پر کسی بات کا
آئنہ سا دکھاتی رہیں حیرتیں کوئی پردے اٹھاتا گراتا رہا
رات کی اوڑھنی کے ستارے بجھے بجھنے والے جو تھے دیپ سارے بجھے
درد کے چاند کی چاندنی میں مگر شہر جاں رات بھر جگمگاتا رہا
کچھ خیالوں کا خوابوں کا میں نقش گر اور تو کچھ نہ تھا پاس اپنے مگر
کچھ خیال آنکھ میں صورت خواب تھے نقش کیا کیا انہی سے بناتا رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.