راتوں کے خوف دن کی اداسی نے کیا دیا

فضل تابش

راتوں کے خوف دن کی اداسی نے کیا دیا

فضل تابش

MORE BYفضل تابش

    راتوں کے خوف دن کی اداسی نے کیا دیا

    سایے کے طور لیٹ کے چلنا سکھا دیا

    کمرے میں آ کے بیٹھ گئی دھوپ میز پر

    بچوں نے کھلکھلا کے مجھے بھی جگا دیا

    وہ کل شراب پی کے بھی سنجیدہ ہی رہا

    اس احتیاط نے اسے مجھ سے چھڑا دیا

    جب کوئی بھی اتر نہ سکا میرے جسم میں

    سب حال میں نے صرف اسی کو سنا دیا

    اپنا لہو نچوڑ کے دیکھوں گا ایک دن

    جینے کے زہر نے اسے کیا کچھ بنا دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY