راتوں کی سنسان سڑک پر

معین شاداب

راتوں کی سنسان سڑک پر

معین شاداب

MORE BYمعین شاداب

    راتوں کی سنسان سڑک پر

    چلتے ہیں یادوں کے لشکر

    دیکھ نہ یوں پیچھے مڑ مڑ کر

    ورنہ ہو جائے گا پتھر

    ملتی ہے پیروں کو طاقت

    کھا کر دیکھ کبھی تو ٹھوکر

    گھر ہی بے گھری یہ کب تک

    کوئی نئی دیوار نیا در

    قتل کا اتنا شور ہوا ہے

    دیکھ رہا ہوں خود کو چھو کر

    وصل چلو منظور ہے یوں بھی

    ان کا پتھر اور میرا سر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY