راز دل فاش کیا کرتے ہو کیا کرتے ہو

حنیف اخگر

راز دل فاش کیا کرتے ہو کیا کرتے ہو

حنیف اخگر

MORE BYحنیف اخگر

    راز دل فاش کیا کرتے ہو کیا کرتے ہو

    نام سے میرے حیا کرتے ہو کیا کرتے ہو

    روز اقرار وفا کرتے ہو کیا کرتے ہو

    زخم دل پھر سے ہرا کرتے ہو کیا کرتے ہو

    تم سے منسوب ہے اک عہد وفا کا اقرار

    تم بھی توہین وفا کرتے ہو کیا کرتے ہو

    شیشۂ دل کے برتنے کا سلیقہ سیکھو

    تم تو بس توڑ دیا کرتے ہو کیا ہو

    شوق کو پہلے ذرا حد سے سوا ہونے دو

    درد کو حد سے سوا کرتے ہو کیا کرتے ہو

    عشوۂ جاں طلبی مورد الزام نہ ہو

    مجھ سے کہتے رہو کیا کرتے ہو کیا کرتے ہو

    ہر گھڑی اس لب شیریں کا تصور اخگرؔ

    تلخ جینے کا مزہ کرتے ہو کیا کرتے ہو

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 81)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY