رگ رگ میں میری پھیل گیا ہے یہ کیسا زہر

شاہد ماہلی

رگ رگ میں میری پھیل گیا ہے یہ کیسا زہر

شاہد ماہلی

MORE BYشاہد ماہلی

    رگ رگ میں میری پھیل گیا ہے یہ کیسا زہر

    کیوں ڈوبنے لگا ہے دھندلکوں میں سارا شہر

    مجھ کو جھنجھوڑ دیتی ہیں لمحوں کی آہٹیں

    اٹھتی ہے میرے جسم میں اک بے بسی کی لہر

    یہ شب مرے وجود پہ یوں ٹوٹ پڑتی ہے

    جیسے کوئی بلا ہو کہ آسیب ہو کہ قہر

    پھوٹا نہ مدتوں سے کوئی چشمۂ امید

    سوکھی پڑی ہوئی ہے مری خواہشوں کی نہر

    چہرے پہ وقت کی میں سیاہی ملا کروں

    مجھ کو بھی کچھ ملا ہے مشیت سے کار دہر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY