رہ خلوص میں بہتر ہے سر جھکا رکھنا

جمیل نظر

رہ خلوص میں بہتر ہے سر جھکا رکھنا

جمیل نظر

MORE BY جمیل نظر

    رہ خلوص میں بہتر ہے سر جھکا رکھنا

    وہ سر کشیدہ اگر ہے تو سر سوا رکھنا

    یہی وہ سوچ ہے جس کی تلاش تھی مجھ کو

    یہ بات اپنے خیالوں سے اب جدا رکھنا

    نہ قرب ذات ہی حاصل نہ زخم رسوائی

    عجیب لگتا ہے اب خود سے رابطہ رکھنا

    تمام شہر کو آتش کدہ بنانا ہے

    دلوں کی آگ سلیقے سے جا بجا رکھنا

    بڑا عجیب ہے تہذیب ارتقا کے لیے

    تمام عمر کسی اک کو ہم نوا رکھنا

    کمال حرص ہے جذب و طلب کی دنیا میں

    بدن کو روح کی آواز سے جدا رکھنا

    بلند کر کے ذرا حوصلوں کی دیواریں

    دیا جلا کے ہوا کو چراغ پا رکھنا

    شکست و ریخت کی دنیا میں زندہ رہنے کی

    بکھر بکھر کے سمٹنے کا حوصلہ رکھنا

    خود اپنی ذات پہ تنقید کے مرادف ہے

    کسی کے سامنے دانستہ آئینہ رکھنا

    جسے ملی ہے یہ دولت وہی سمجھتا ہے

    عجیب نعمت عظمی ہے دل دکھا رکھنا

    ہو جب بھی جانا کسی کے نگار خانے میں

    نظرؔ خیال ذرا خد و خال کا رکھنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites