رہ گزر ہو یا مسافر نیند جس کو آئے ہے

غلام ربانی تاباں

رہ گزر ہو یا مسافر نیند جس کو آئے ہے

غلام ربانی تاباں

MORE BYغلام ربانی تاباں

    رہ گزر ہو یا مسافر نیند جس کو آئے ہے

    گرد کی میلی سی چادر اوڑھ کے سو جائے ہے

    قربتیں ہی قربتیں ہیں دوریاں ہی دوریاں

    آرزو جادو کے صحرا میں مجھے دوڑائے ہے

    وقت کے ہاتھوں ضمیر شہر بھی مارا گیا

    رفتہ رفتہ موج خوں سر سے گزرتی جائے ہے

    میری آشفتہ سری وجہ شناسائی ہوئی

    مجھ سے ملنے روز کوئی حادثہ آ جائے ہے

    یوں تو اک حرف تسلی بھی بڑی شے ہے مگر

    ایسا لگتا ہے وفا بے آبرو ہو جائے ہے

    زندگی کی تلخیاں دیتی ہیں خوابوں کو جنم

    تشنگی صحرا میں دریا کا سماں دکھلائے ہے

    کس طرح دست ہنر میں بولنے لگتے ہیں رنگ

    مدرسے والوں کو تاباںؔ کون سمجھا پائے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY