رہتے ہیں اس طرح سے غم و یاس آس پاس

ناطق گلاوٹھی

رہتے ہیں اس طرح سے غم و یاس آس پاس

ناطق گلاوٹھی

MORE BY ناطق گلاوٹھی

    رہتے ہیں اس طرح سے غم و یاس آس پاس

    میں ان سے دور دور تو یہ میرے پاس پاس

    یہ بھی نشہ میں کیوں نہ مرے ساتھ چور ہو

    ساقی خدا کے واسطے رکھ دے گلاس پاس

    پھر چاک دامنی کی ہمیں قدر کیوں نہ ہو

    جب اور دوسرا نہیں کوئی لباس پاس

    چکرا رہا ہے کوچۂ گیسو میں جا کے دل

    منڈلا رہی ہے موت مسافر کے آس پاس

    ناطقؔ خدا کی شان کہ اپنا نہیں کوئی

    ہونے کو یوں تو ساری خدائی ہے آس پاس

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY