رہتی ہے سب کے پاس تنہائی

اندر سرازی

رہتی ہے سب کے پاس تنہائی

اندر سرازی

MORE BYاندر سرازی

    رہتی ہے سب کے پاس تنہائی

    پھر بھی ہے کیوں اداس تنہائی

    دل نہیں لگتا پھر کہیں اس کا

    آ گئی جس کو راس تنہائی

    عشق نے پھینکا تھا پہن کے اسے

    پہنے ہے جو لباس تنہائی

    ساتھ سب کا دیا ہے اب لیکن

    خود ہے کتنی اداس تنہائی

    زندگی بھر کے ساتھی ہیں میرے

    جام ساقی گلاس تنہائی

    کون جانے ہوا ہے کیا اندرؔ

    رہتی ہے کیوں اداس تنہائی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY