رکھ رکھاؤ میں کوئی خوار نہیں ہوتا یار

افتخار مغل

رکھ رکھاؤ میں کوئی خوار نہیں ہوتا یار

افتخار مغل

MORE BY افتخار مغل

    رکھ رکھاؤ میں کوئی خوار نہیں ہوتا یار

    دوست ہوتے ہیں، ہر اک یار نہیں ہوتا یار

    دو گھڑی بیٹھو مرے پاس، کہو کیسی ہو

    دو گھڑی بیٹھنے سے پیار نہیں ہوتا یار

    یار! یہ ہجر کا غم! اس سے تو موت اچھی ہے

    جاں سے یوں ہی کوئی بیزار نہیں ہوتا یار

    روح سنتی ہے محبت میں بدن بولتے ہیں

    لفظ پیرایۂ اظہار نہیں ہوتا یار

    نوکری، شاعری، گھر بار، زمانہ، قدریں

    اک محبت ہی کا آزار نہیں ہوتا یار

    خوش دلی اور ہے اور عشق کا آزار کچھ اور

    پیار ہو جائے تو اقرار نہیں ہوتا یار

    لڑکیاں لفظ کی تصویر چھپا لیتی ہیں

    ان کا اظہار بھی اظہار نہیں ہوتا یار

    آدمی عشق میں بھی خود سے نہیں گھٹ سکتا

    آدمی سایۂ دیوار نہیں ہوتا یار!!

    گھیر لیتی ہے کوئی زلف، کوئی بوئے بدن

    جان کر کوئی گرفتار نہیں ہوتا یار

    یہی ہم آپ ہیں ہستی کی کہانی، اس میں

    کوئی افسانوی کردار نہیں ہوتا یار

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY