رنگ آمیزی سے پیدا کچھ اثر ایسا ہوا

ہیرا لال فلک دہلوی

رنگ آمیزی سے پیدا کچھ اثر ایسا ہوا

ہیرا لال فلک دہلوی

MORE BYہیرا لال فلک دہلوی

    رنگ آمیزی سے پیدا کچھ اثر ایسا ہوا

    خود مصور اپنی ہی تصویر کا شیدا ہوا

    کیا نگاہوں کی تشفی ہو کہ بزم دہر میں

    سامنے آتا ہے ہر منظر مرا دیکھا ہوا

    کھول کر آنکھیں ذرا یہ حسن مہر و ماہ دیکھ

    دید کے قابل ہے ذرہ چرخ پر پہنچا ہوا

    عشق نے اس دل کو دم لینے کی فرصت ہی نہ دی

    ایک جب ارمان نکلا دوسرا پیدا ہوا

    برق کے شعلوں مناسب ہے مجھی کو پھونک دو

    کس کلیجے سے میں دیکھوں آشیاں جلتا ہوا

    اک وہی اپنا خدا ہے اک وہی ہے اپنا بت

    جس کے در پر سر جھکا دینے سے سر اونچا ہوا

    پہنچو گر اک چاند پر سو اور آتے ہیں نظر

    آسماں جانے ہے کتنی دور تک پھیلا ہوا

    اب فلکؔ ہے اک نئی دنیا کی دل کی جستجو

    یہ زمیں دیکھی ہوئی ہے آسماں دیکھا ہوا

    مأخذ :
    • کتاب : Harf-o-sada (Pg. 80)
    • Author : Hira lal Falak Dehlvi
    • مطبع : Hira lal Falak Dehlvi (1982)
    • اشاعت : 1982

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY