رنگ کے گہرے تھے لیکن دور سے اچھے لگے

آزاد حسین آزاد

رنگ کے گہرے تھے لیکن دور سے اچھے لگے

آزاد حسین آزاد

MORE BYآزاد حسین آزاد

    رنگ کے گہرے تھے لیکن دور سے اچھے لگے

    ادھ کھلی ان کھڑکیوں پر جامنی پردے لگے

    خشک ہوتی بیل سے دیوار چھوٹی دفعتاً

    زرد پتوں کو بچاتے پھول خود گرنے لگے

    پکے رشتوں میں دراڑوں کی کہانی کھل گئی

    ڈوبنے والے کو سارے ہی گھڑے کچے لگے

    اک تخیل جسم اوڑھے آن بیٹھا سامنے

    لفظ بھی اب سوچ کو تصویر سا کرنے لگے

    بیل نے بس سینگ بدلے اور دنیا ہل گئی

    چند لمحے شہر کا جغرافیہ لکھنے لگے

    بے ضرورت گھونسلے پر ایک چڑیا مضطرب

    دو پرندے آج پہلی بار ہیں اڑنے لگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY