رنگ و رامش زمزمے گل ہائے تر ہوتے ہوئے

خالد محمود

رنگ و رامش زمزمے گل ہائے تر ہوتے ہوئے

خالد محمود

MORE BY خالد محمود

    رنگ و رامش زمزمے گل ہائے تر ہوتے ہوئے

    دل اکیلا اور اتنے ہم سفر ہوتے ہوئے

    آنسوؤں سے سرد ہو جاتی ہے ہر سینے کی آگ

    میرا دل آتش کدہ ہے چشم تر ہوتے ہوئے

    دل کی دنیا میں اندھیرا ہو تو کچھ روشن نہیں

    آنکھ چشم سنگ ہے شمس و قمر ہوتے ہوئے

    چشم آگے ایک چہرہ پاؤں گو چکر میں ہیں

    در بہ در ہوتا نہیں دل در بہ در ہوتے ہوئے

    حوصلہ ٹوٹا تو وہ عبرت کا منظر آ گیا

    اڑ نہیں پایا پرندہ بال و پر ہوتے ہوئے

    نصف دنیا بھوک سے اور پیاس سے مغلوب ہے

    دست و بازو ذہن و دل لعل و گہر ہوتے ہوئے

    ہر کس و ناکس پہ کر لیتا ہے فوراً اعتبار

    بے خبر کتنا ہے خالدؔ با خبر ہوتے ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY