رنج و غم لاکھ ہوں مسکراتے رہو

حفیظ کرناٹکی

رنج و غم لاکھ ہوں مسکراتے رہو

حفیظ کرناٹکی

MORE BYحفیظ کرناٹکی

    رنج و غم لاکھ ہوں مسکراتے رہو

    دوست دشمن سے ملتے ملاتے رہو

    یہ اندھیرے ہیں مہمان اک رات کے

    تم مگر صبح تک جگمگاتے رہو

    میں بھلانے کی کوشش کروں گا تمہیں

    تم مجھے روز و شب یاد آتے رہو

    راہ کے پیچ و خم خود سلجھ جائیں گے

    سوئے منزل قدم کو بڑھاتے رہو

    ابر بن کر برستے رہو ہر طرف

    عمر شادابیوں کی بڑھاتے رہو

    موت آئے تو خاموش کر جائے گی

    زندگی گیت ہے اس کو گاتے رہو

    تازہ دم مجھ کو رکھنا ہے حافظؔ تو پھر

    ہر قدم پر مجھے آزماتے رہو

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY