رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے

شیخ علی بخش بیمار

رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے

شیخ علی بخش بیمار

MORE BYشیخ علی بخش بیمار

    رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے

    اب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گے

    باندھیں گے کسی اور ہی جوڑے کا تصور

    سر دھیان میں اس زلف کے مارا نہ کریں گے

    امکان سے خارج ہے کہ ہوں تجھ سے مخاطب

    ہم نام کو بھی تیرے پکارا نہ کریں گے

    یک بار کبھی بھولے سے آ جائیں تو آ جائیں

    لیکن گزر اس گھر میں دوبارا نہ کریں گے

    کیا خوب کہا تو نے جو کھولوں ابھی آغوش

    ملنے سے مرے آپ کنارا نہ کریں گے

    گو خاک میں مل جائیں ہم اور وضع بدل جائیں

    پر تجھ سے ملاقات خود آرا نہ کریں گے

    اس نرگس بیمارؔ سے رکھتے ہیں شباہت

    ہرگز سوئے عبہر بھی اشارا نہ کریں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY