رقص کیا کبھی شور مچایا پہلی پہلی بارش میں

خالد معین

رقص کیا کبھی شور مچایا پہلی پہلی بارش میں

خالد معین

MORE BYخالد معین

    رقص کیا کبھی شور مچایا پہلی پہلی بارش میں

    میں تھا میرا پاگل پن تھا پہلی پہلی بارش میں

    پیہم دستک پر بوندوں کی آخر اس نے دھیان دیا

    کھل گیا دھیرے دھیرے دریچہ پہلی پہلی بارش میں

    ایک اکیلا میں ہی گھر میں خوف زدہ سا بیٹھا تھا

    ورنہ شہر تو بھیگ رہا تھا پہلی پہلی بارش میں

    آنے والے سبز دنوں کی سب شادابی، اس سے ہے

    آنکھوں نے جو منظر دیکھا پہلی پہلی بارش میں

    شام پڑے سو جانے والا! دیپ بجھا کر یادوں کے

    رات گئے تک جاگ رہا تھا پہلی پہلی بارش میں

    جانے کیا کیا خواب بنے تھے، پہلے ساون میں، میں نے

    جانے اس پر کیا کیا لکھا پہلی پہلی بارش میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY