رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سے

افسر میرٹھی

رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سے

افسر میرٹھی

MORE BYافسر میرٹھی

    رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سے

    پھول ہنستے ہوئے نکلے ہیں نہاں خانوں سے

    لاکھ ارمانوں کے اجڑے ہوئے گھر ہیں دل میں

    یہ وہ بستی ہے کہ آباد ہے ویرانوں سے

    لالہ زاروں میں جب آتی ہیں بہاریں ساقی

    آگ لگ جاتی ہے ظالم ترے پیمانوں سے

    اب کوئی دیر میں الفت کا طلب گار نہیں

    اٹھ گئی رسم وفا ہائے صنم خانوں سے

    پاس آتے گئے جس درجہ بیابانوں کے

    دور ہوتے گئے ہم اور بیابانوں سے

    اب کے ہم راہ گزاریں گے جنوں کا موسم

    دامنوں کی یہ تمنا ہے گریبانوں سے

    اس زمانے کے وہ مے نوش وہ بدمست ہیں ہم

    پارسا ہو کے نکلتے ہیں جو مے خانوں سے

    ہائے کیا چیز ہے کیفیت سوز الفت

    کوئی پوچھے یہ ترے سوختہ سامانوں سے

    پھر بہار آئی جنوں خیز ہوائیں لے کر

    پھر بلاوے مجھے آتے ہیں بیابانوں سے

    خاک کس مست محبت کی ہے ساقی ان میں

    کہ مجھے بوئے وفا آتی ہے پیمانوں سے

    غیر کی موت پہ وہ روتے ہیں اور ہم افسرؔ

    زہر پیتے ہیں چھلکتے ہوئے پیمانوں سے

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY