روشنی میری ہوا چاہتی ہے

رشمی صبا

روشنی میری ہوا چاہتی ہے

رشمی صبا

MORE BYرشمی صبا

    روشنی میری ہوا چاہتی ہے

    بس وہ دروازہ کھلا چاہتی ہے

    قتل ہونے سے بچا چاہتی ہے

    میری تنہائی دعا چاہتی ہے

    بیل ضدی ہے جنوں کی میری

    وہ لپٹنے کو ہوا چاہتی ہے

    گھر کا دروازہ کبھی کھلتا نہیں

    پھر بھی دہلیز دیا چاہتی ہے

    میری تخلیق خفا ہے مجھ سے

    میری پہچان جدا چاہتی ہے

    دل یہ چاہے کہ میں روٹھوں اس سے

    روح کیوں ضبط انا چاہتی ہے

    کاش گلشن نے یہ پوچھا ہوتا

    کون سا پھول صباؔ چاہتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY