رواں ہے نور کا اک سیل ہر بن مو سے

خورشید طلب

رواں ہے نور کا اک سیل ہر بن مو سے

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    رواں ہے نور کا اک سیل ہر بن مو سے

    مجھے چھوا ہے کسی نے ہزار پہلو سے

    بدل کے رکھ دیا جنگل کو شہر میں اس نے

    تمام دشت پریشاں ہے ایک آہو سے

    خدا کے واسطے اب روک بھی یہ رقص جنوں

    صدا کچھ اور ہی آنے لگی ہے گھنگھرو سے

    انہیں میں وقت کے کاندھے پہ ڈال دیتا ہوں

    جو بوجھ اٹھتے نہیں میرے دست و بازو سے

    ہر ایک عہد نے لکھا ہے اپنا نامۂ شوق

    کسی نے خوں سے لکھا ہے کسی نے آنسو سے

    مرا سوال غزل کے مخالفین سے ہے

    مجھے نکل کے دکھا دیں غزل کے جادو سے

    RECITATIONS

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    رواں ہے نور کا اک سیل ہر بن مو سے خورشید طلب

    مأخذ :
    • کتاب : Jahaan Gard (Pg. 37)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY