روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں

احمد فراز

روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں

احمد فراز

MORE BY احمد فراز

    روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں

    در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں

    عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے

    بعد میں سیکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں

    پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہے

    پھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں

    بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہے

    رو نہ پائیں تو گلے یار سے لگ جاتے ہیں

    کترنیں غم کی جو گلیوں میں اڑی پھرتی ہیں

    گھر میں لے آؤ تو انبار سے لگ جاتے ہیں

    داغ دامن کے ہوں دل کے ہوں کہ چہرے کے فرازؔ

    کچھ نشاں عمر کی رفتار سے لگ جاتے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY