روز اول ہی خطا کار بنایا گیا ہوں

اکرم جاذب

روز اول ہی خطا کار بنایا گیا ہوں

اکرم جاذب

MORE BYاکرم جاذب

    روز اول ہی خطا کار بنایا گیا ہوں

    اور پھر اشرف مخلوق بتایا گیا ہوں

    ٹوٹنے اور بکھرنے پہ ہے واویلا کیوں

    دیکھیے کتنی بلندی سے گرایا گیا ہوں

    اختیارات سے تقدیر سے کیا لینا ہے

    وقت کی گرد میں تنکا سا اڑایا گیا ہوں

    زندگی ایک ڈگر پر ہی کہاں چلتی ہے

    کبھی دیوار کبھی دل سے لگایا گیا ہوں

    دونوں ہاتھوں سے لٹاتے ہوئے یہ تو سوچیں

    کتنی محنت سے محبت سے کمایا گیا ہوں

    میں نہ یوسف ہوں نہ ہے کوئی خریدار مرا

    جانے کیا سوچ کے بازار میں لایا گیا ہوں

    امتحاں دینے تلک یاد جنہیں رکھا جائے

    ان سوالات کی مانند بھلایا گیا ہوں

    نوک خنجر سے سہی وقت کے ہاتھوں لیکن

    گدگدی کر کے کئی بار ہنسایا گیا ہوں

    اس زمانے کا ہوں میں ایک ہنسی کا مقروض

    جس کی پاداش میں اک عمر رلایا گیا ہوں

    مسئلہ یوں ہی نہیں پیش فشار خوں کا

    خود سے الجھایا گیا اور لڑایا گیا ہوں

    اجنبی لوگ زمیں زاد نہیں لگتے ہیں

    اور سیارے پہ شاید میں بسایا گیا ہوں

    کنفیوشس ہو کہ نانک ہو کہ بدھا گوتم

    سو طریقوں سے سبق ایک پڑھایا گیا ہوں

    لاکھ پردوں میں سہی میری حقیقت ملفوف

    میں بہ ہر رنگ زمانے کو دکھایا گیا ہوں

    مجھ کو ماحول موافق نہیں آیا جاذبؔ

    پھول ہوں اور سر دشت کھلایا گیا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY