رکا ہوں کس کے وہم میں مرے گمان میں نہیں

غلام حسین ساجد

رکا ہوں کس کے وہم میں مرے گمان میں نہیں

غلام حسین ساجد

MORE BYغلام حسین ساجد

    رکا ہوں کس کے وہم میں مرے گمان میں نہیں

    چراغ جل رہا ہے اور کوئی مکان میں نہیں

    وہ طائر نگاہ بھی سفر میں ساتھ ہے مرے

    کہ جس کا ذکر تک ابھی کسی اڑان میں نہیں

    مری طلب مرے لیے ملال چھوڑ کر گئی

    جو شے مجھے پسند ہے وہی دکان میں نہیں

    کوئی عجیب خواب تھا اگر میں یاد کر سکوں

    کوئی عجیب بات تھی مگر وہ دھیان میں نہیں

    وہ دشمنی کی شان سے ملے تو دل میں رہ گئے

    مگر یہ بات دوستی کی آن بان میں نہیں

    میں رزق خواب ہو کے بھی اسی خیال میں رہا

    وہ کون ہے جو زندگی کے امتحان میں نہیں

    وہ خواب شام ہجر میں سحر کی آس تھا مجھے

    مگر وہ تیرے وصل کی کھلی امان میں نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : meyaar (Pg. 381)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY