رخ ہواؤں کے کسی سمت ہوں منظر ہیں وہی

فضیل جعفری

رخ ہواؤں کے کسی سمت ہوں منظر ہیں وہی

فضیل جعفری

MORE BYفضیل جعفری

    رخ ہواؤں کے کسی سمت ہوں منظر ہیں وہی

    ٹوپیاں رنگ بدلتی ہیں مگر سر ہیں وہی

    جن کے اجداد کی مہریں در و دیوار پہ ہیں

    کیا ستم ہے کہ بھرے شہر میں بے گھر ہیں وہی

    پھول ہی پھول تھے خوابوں میں سر وادیٔ شب

    صبح دم راہوں میں جلتے ہوئے پتھر ہیں وہی

    ناؤ کاغذ کی چلی کاٹھ کے گھوڑے دوڑے

    شعبدہ بازی کے سچ پوچھو تو دفتر ہیں وہی

    بک گئے پچھلے دنوں صاحب عالم کتنے

    ہم فقیروں کے مگر جعفریؔ تیور ہیں وہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY