روداد جاں کہیں جو ذرا دم ملے ہمیں

امیر امام

روداد جاں کہیں جو ذرا دم ملے ہمیں

امیر امام

MORE BYامیر امام

    روداد جاں کہیں جو ذرا دم ملے ہمیں

    اس دل کے راستے میں کئی خم ملے ہمیں

    لبیک پہلے ہم نے کہا تھا رسول‌ حسن

    ہو کارزار عشق تو پرچم ملے ہمیں

    آئے اک ایسا زخم جو بھرنا نہ ہو کبھی

    یعنی ہر ایک زخم کا مرہم ملے ہمیں

    دن میں جہاں سراب ملے تھے ہمیں وہاں

    آئی جو رات قطرۂ شبنم ملے ہمیں

    تم جیسے اور لوگ بھی ہوں گے جہان میں

    یہ بات اور ہے کہ بہت کم ملے ہمیں

    جب ساتھ تھے تو مل کے بھی ملنا نہ ہو سکا

    جب سے بچھڑ گئے ہو تو پیہم ملے ہمیں

    اور پھر ہمیں بھی خود پہ بہت پیار آ گیا

    اس کی طرف کھڑے ہوئے جب ہم ملے ہمیں

    جو عمر بھر کا ساتھ نبھاتا نہ مل سکا

    ویسے تو زندگی میں بہت غم ملے ہمیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY