روح کی بات سنے جسم کے تیور دیکھے

علی عباس امید

روح کی بات سنے جسم کے تیور دیکھے

علی عباس امید

MORE BYعلی عباس امید

    روح کی بات سنے جسم کے تیور دیکھے

    التجا ہے کہ وہ اس آگ میں جل کر دیکھے

    تم وہ دریا کہ چڑھے بھی تو گھڑی بھر کے لیے

    میں وہ قطرہ ہوں جو گر کے بھی سمندر دیکھے

    چبھتا ماحول گھٹی روح گریزاں لمحے

    دل کی حسرت ہے کبھی ان سے نکل کر دیکھے

    ایک نقشے پہ زمانہ رہا ہنگام وصال

    شیشہ‌ٔ جسم میں سو طرح کے منظر دیکھے

    کیسے کر لے وہ یقیں تجھ پہ فریب‌ غم ذات

    تیری راہوں میں جو تشکیک کے پتھر دیکھے

    بات ہو صرف حقیقت کی تو سہہ لے لیکن

    اپنے خوابوں کو بکھرتے کوئی کیوں کر دیکھے

    ہم سے مت پوچھئے کیا نفس پہ گزری امیدؔ

    ایک اک سانس سے لڑتے ہوئے لشکر دیکھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY