روح کی مانگ ہے وہ جسم کا سامان نہیں

فاطمہ حسن

روح کی مانگ ہے وہ جسم کا سامان نہیں

فاطمہ حسن

MORE BYفاطمہ حسن

    روح کی مانگ ہے وہ جسم کا سامان نہیں

    اس کا ملنا مجھے مشکل نہ ہو آسان نہیں

    کوئی دم اور ہے بس خاک ہوئے جانے میں

    خاک بھی ایسی کہ جس کی کوئی پہچان نہیں

    ٹھیس کچھ ایسی لگی ہے کہ بکھرنا ہے اسے

    دل میں دھڑکن کی جگہ درد ہے اور جان نہیں

    بوجھ ہے عشق تو پھر کیسے سنبھالیں اس کو

    دور تک ساتھ چلیں اس کا تو امکان نہیں

    مختلف سمت بہائے لیے جاتا ہے ہمیں

    وقت کے ساتھ ہمارا کوئی پیمان نہیں

    فاطمہؔ درد کے رشتے سے کنارا کرنا

    بے حسی کہہ لو اسے یہ کوئی نروان نہیں

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    Rooh ki maang hai woh jism ka saman nahin عذرا نقوی

    مأخذ :
    • کتاب : Asaleeb (Pg. 246)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY