سائے میں آبلوں کی جلن اور بڑھ گئی

اعجاز رحمانی

سائے میں آبلوں کی جلن اور بڑھ گئی

اعجاز رحمانی

MORE BYاعجاز رحمانی

    سائے میں آبلوں کی جلن اور بڑھ گئی

    تھک کر جو بیٹھے ہم تو تھکن اور بڑھ گئی

    کل اس قدر تھا حبس ہمارے مکان میں

    سنکی ہوا ذرا تو گھٹن اور بڑھ گئی

    کانٹوں کی گفتگو سے خلش دل میں کم نہ تھی

    پھولوں کے تذکرے سے چبھن اور بڑھ گئی

    یہ باغباں ہمارے لہو کا کمال ہے

    نیرنگئ بہار چمن اور بڑھ گئی

    یہ ہجر کی ہے آگ مزاج اس کا اور ہے

    اشکوں سے شعلگیٔ بدن اور بڑھ گئی

    سیراب کر سکا نہ اسے میرا خون بھی

    کچھ تشنگئ دار و رسن اور بڑھ گئی

    حرف سپاس پیش کیا جب بھی وہ ملا

    لیکن جبیں پہ اس کی شکن اور بڑھ گئی

    تحریر کی جو ایک غزل اس کے نام پر

    اعجازؔ آبروئے سخن اور بڑھ گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے