سائے پھیل گئے کھیتوں پر کیسا موسم ہونے لگا

عبد الحمید

سائے پھیل گئے کھیتوں پر کیسا موسم ہونے لگا

عبد الحمید

MORE BYعبد الحمید

    سائے پھیل گئے کھیتوں پر کیسا موسم ہونے لگا

    دل میں جو ٹھہراؤ تھا اک دم درہم برہم ہونے لگا

    پردیسی کا واپس آنا جھوٹی خبر ہی نکلی نا

    بوڑھی ماں کی آنکھ کا تارہ پھر سے مدھم ہونے لگا

    بچپن یاد کے رنگ محل میں کیسے کیسے پھول کھلے

    ڈھول بجے اور آنسو ٹپکے کہیں محرم ہونے لگا

    ڈھور ڈنگر اور پنکھ پکھیرو حضرت انساں کاٹھ کباڑ

    اک سیلاب میں بہتے بہتے سب کا سنگم ہونے لگا

    سب سے یقین اٹھایا ہم نے دوست پڑوسی دن تاریخ

    عید ملن کو گھر سے نکلے شور ماتم ہونے لگا

    RECITATIONS

    عبد الحمید

    عبد الحمید,

    عبد الحمید

    سائے پھیل گئے کھیتوں پر کیسا موسم ہونے لگا عبد الحمید

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے