صاف اوراق ہیں لکھنے کی جگہ خالی ہے

آزاد حسین آزاد

صاف اوراق ہیں لکھنے کی جگہ خالی ہے

آزاد حسین آزاد

MORE BYآزاد حسین آزاد

    صاف اوراق ہیں لکھنے کی جگہ خالی ہے

    یعنی اس مانگ میں تارے کی جگہ خالی ہے

    نہر کے پار گیا یار نہیں پلٹا کبھی

    کار میں اب بھی کمینے کی جگہ خالی ہے

    کوئی خوش رنگ دلاسہ ہے تو لکھتے جاؤ

    میری دیوار پہ نعرے کی جگہ خالی ہے

    آج بھی کھاٹ پہ بوسیدہ بدن دیکھتا ہوں

    باپ کے بعد بھی کونے کی جگہ خالی ہے

    چاک پر رکھی ہوئی دنیا مکمل کر دو

    آخری جسم پہ چہرے کی جگہ خالی ہے

    میری غزلیں ہیں سبھی بعد ترے بے مطلع

    سارے نغمات میں مکھڑے کی جگہ خالی ہے

    معذرت یار نیا عشق نہیں ہو سکتا

    دل میسر ہے نہ سینے کی جگہ خالی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY