سال یہ کون سا نیا ہے مجھے

آلوک مشرا

سال یہ کون سا نیا ہے مجھے

آلوک مشرا

MORE BY آلوک مشرا

    سال یہ کون سا نیا ہے مجھے

    وہ ہی گزرا گزارنا ہے مجھے

    چوک اٹھتا ہوں آنکھ لگتے ہی

    کوئی سایہ پکارتا ہے مجھے

    کیوں بتاتا نہیں کوئی کچھ بھی

    آخر ایسا بھی کیا ہوا ہے مجھے

    تب بھی روشن تھا لمس سے تیرے

    ورنہ کب عشق نے چھوا ہے مجھے

    عادتاً ہی اداس رہتا ہوں

    ورنہ کس بات کا گلہ ہے مجھے

    اب کے اندر کے گھپ اندھیروں میں

    ایک سورج اجالنا ہے مجھے

    مستقل چپ سے آسماں کی طرح

    ایک دن خود پہ ٹوٹنا ہے مجھے

    میری تربت پہ پھول رکھ کر اب

    وہ حقیقت بتا رہا ہے مجھے

    کیا ضرورت ہے مجھ کو چہرے کی

    کون چہرے سے جانتا ہے مجھے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    آلوک مشرا

    آلوک مشرا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY