سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے

عاصم واسطی

سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے

عاصم واسطی

MORE BYعاصم واسطی

    سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے

    اس کہانی میں اضافی تذکرہ میرا بھی ہے

    بے سبب آوارگی مصروف رکھتی ہے مجھے

    رات دن بیکار پھرنا مشغلہ میرا بھی ہے

    بات کر فرہاد سے بھی انتہائے عشق پر

    مشورہ مجھ سے بھی کر کچھ تجربہ میرا بھی ہے

    کیا ضروری ہے اندھیرے میں ترا تنہا سفر

    جس پہ چلنا ہے تجھے وہ راستہ میرا بھی ہے

    ہے کوئی جس کی لگن گردش میں رکھتی ہے مجھے

    ایک نکتے کی کشش سے دائرہ میرا بھی ہے

    بے سبب یہ رقص ہے میرا بھی اپنے سامنے

    عکس وحشت ہے مجھے بھی آئنہ میرا بھی ہے

    ایک گم کردہ گلی میں ایک ناموجود گھر

    کوچۂ عشاق میں عاصمؔ پتہ میرا بھی ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY