سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی

احمد فراز

سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی

    دل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کی

    اہل محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا

    میں بھی خاموش رہا اس نے بھی پرسش نہیں کی

    جس قدر اس سے تعلق تھا چلا جاتا ہے

    اس کا کیا رنج ہو جس کی کبھی خواہش نہیں کی

    یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے

    اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی

    اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا

    اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی

    ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں

    ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی

    اے مرے ابر کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاں

    کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی

    کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیے

    مقتل شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی

    وہ ہمیں بھول گیا ہو تو عجب کیا ہے فرازؔ

    ہم نے بھی میل ملاقات کی کوشش نہیں کی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    احمد فراز

    احمد فراز

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے