سانس لینے کے لیے تازہ ہوا بھیجی ہے

حامد سروش

سانس لینے کے لیے تازہ ہوا بھیجی ہے

حامد سروش

MORE BYحامد سروش

    سانس لینے کے لیے تازہ ہوا بھیجی ہے

    زندگی کے لیے معصوم دعا بھیجی ہے

    میں نے بھیجی تھی گلابوں کی بشارت اس کو

    تحفۃً اس نے بھی خوشبوئے وفا بھیجی ہے

    میں تو قاتل تھا بری ہو کے بھی قاتل ہی رہا

    مجھ کو انصاف نے جینے کی سزا بھیجی ہے

    کتنے غم ہیں جو سر شام سلگ اٹھتے ہیں

    چارہ گر تو نے یہ کس دکھ کی دوا بھیجی ہے

    مرحلے اور بھی تھے جاں سے گزرنے کے لیے

    کربلا کس نے پس کرب و بلا بھیجی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 420)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY