سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر

محسن نقوی

سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر

    زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر

    مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں

    کچھ پھول اک فقیر کی جھولی میں ڈال کر

    کل یوم ہجر زرد زمانوں کا یوم ہے

    شب بھر نہ جاگ مفت میں آنکھیں نہ لال کر

    اے گرد باد لوٹ کے آنا ہے پھر مجھے

    رکھنا مرے سفر کی اذیت سنبھال کر

    محراب میں دیے کی طرح زندگی گزار

    منہ زور آندھیوں میں نہ خود کو نڈھال کر

    شاید کسی نے بخل زمیں پر کیا ہے طنز

    گہرے سمندروں سے جزیرے نکال کر

    یہ نقد جاں کہ اس کا لٹانا تو سہل ہے

    گر بن پڑے تو اس سے بھی مشکل سوال کر

    محسنؔ برہنہ سر چلی آئی ہے شام غم

    غربت نہ دیکھ اس پہ ستاروں کی شال کر

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-mohsin (Pg. 887)
    • Author : Mohsin Naqvi
    • مطبع : Mavra Publishers (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY