سانسوں کو دے کے تحفۂ نکہت گزر گئی

ابرار عابد

سانسوں کو دے کے تحفۂ نکہت گزر گئی

ابرار عابد

MORE BYابرار عابد

    سانسوں کو دے کے تحفۂ نکہت گزر گئی

    چھو کر مجھے ہوائے محبت گزر گئی

    آنکھوں میں اعتبار کا موسم بسا رہا

    مجھ کو فریب دے کے وہ صورت گزر گئی

    محسوس کر رہا ہوں اسے ہر نفس کے ساتھ

    وہ جس کے انتظار میں مدت گزر گئی

    آنکھوں میں ایک کرب سا لہرا کے رہ گیا

    نظروں سے جب بھی تیری شباہت گزر گئی

    وقت آ پڑا ضمیر فروشی کا گر کبھی

    دامن بچا کے میری ضرورت گزر گئی

    عابدؔ مرے لیے تو قیامت سے کم نہ تھی

    کہنے کو اس کے ہجر کی ساعت گزر گئی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY