ساقی یہ تیرے بس میں ہے دے جام یا نہ دے

جرم محمد آبادی

ساقی یہ تیرے بس میں ہے دے جام یا نہ دے

جرم محمد آبادی

MORE BYجرم محمد آبادی

    ساقی یہ تیرے بس میں ہے دے جام یا نہ دے

    جھوٹا مگر کسی کو کبھی آسرا نہ دے

    سوز فراق کشمکش مدعا نہ دے

    دشمن کو بھی کسی کی محبت خدا نہ دے

    شاید کہ سو گیا ہے جنوں پھر جگا نہ دے

    زنجیر پا کو خواب رہائی ہلا نہ دے

    کرنا پڑے ضمیر کے برعکس بندگی

    مجبوریوں کسی کو ضرورت بنا نہ دے

    کیا کیا دکھا رہا ہے محبت کے سبز باغ

    مٹی میں دل کو جوش جوانی ملا نہ دے

    گم ہو کے میں نے سیکھ لیا خوب یہ اصول

    جس کو خبر ملے وہ تمہارا پتا نہ دے

    اے جرمؔ درد و عشق کا ملنا نہیں ہے کھیل

    جب تک کسی بشر کو یہ نعمت خدا نہ دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY