سارا باغ الجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے

ذوالفقار عادل

سارا باغ الجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    سارا باغ الجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے

    مجھ میں پھیلنے لگ جاتی ہے خوشبو اپنی مرضی سے

    ہر منظر کو مجمع میں سے یوں اٹھ اٹھ کر دیکھتے ہیں

    ہو سکتا ہے شہرت پا لیں ہم اپنی دلچسپی سے

    ان آنکھوں سے دو اک آنسو ٹپکے ہوں تو یاد نہیں

    ہم نے اپنا وقت گزارا ہر ممکن خاموشی سے

    برف جمی ہے منزل منزل رستے آتش دان میں ہیں

    بیٹھا راکھ کرید رہا ہوں میں اپنی بیساکھی سے

    خوابوں کے خوش حال پرندے سر پر یوں منڈلاتے ہیں

    دور سے پہچانے جاتے ہیں ہم اپنی بے خوابی سے

    دل سے نکالے جا سکتے ہیں خوف بھی اور خرابے بھی

    لیکن ازل ابد کو عادلؔ کون نکالے بستی سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY