سارے چقماق بدن آئے تھا تیاری سے
سارے چقماق بدن آئے تھا تیاری سے
روشنی خوب ہوئی رات کی چنگاری سے
ان درختوں کی اداسی پہ ترس آتا ہے
لکڑیاں رنگ نہ دوں آگ کی پچکاری سے
کوئی دعویٰ بھی نہیں کرتا مسیحائی کا
ہم بھی آزاد ہوئے جاتے ہیں بیماری سے
منہ لگایا ہی نہیں اسلحہ سازوں کو کبھی
میں نے دنیا کو ہرایا بھی تو دل داری سے
عشق بھی لوگ نمائش کے لیے کرتے ہیں
کیا نمازیں بھی پڑھی جاتی ہیں عیاری سے
سارا بازار چلا آیا ہے گھر میں پھر بھی
باز آتے ہیں کہاں لوگ خریداری سے
آخری نیند سے پہلے کہاں سمجھیں گے ہم
خواب سے ڈرنا ضروری ہے کہ بیداری سے
حسن جس چھاؤں میں بیٹھا تھا وہ قاتل تو نہ تھی
جل گئے جسم نگاہوں کی شجرکاری سے
کم سے کم میں تو مرید ان کا نہیں ہو سکتا
جو پس رقص جنوں بیٹھے ہیں ہشیاری سے
Aakhiri Ishq Sabse Pahle Kiya
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.