سارے منظر دل کش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی

فرح اقبال

سارے منظر دل کش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی

فرح اقبال

MORE BYفرح اقبال

    سارے منظر دل کش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی

    جیون کی ہر شام ہمیں تب ایک کہانی لگتی تھی

    جس کا چاند سا چہرا تھا اور زلف سنہری بادل سی

    مست ہوا کا آنچل تھامے ایک دوانی لگتی تھی

    اپنے خواب نئے لگتے تھے اور پھر ان کے آگے سب

    دنیا اور زمانے کی ہر بات پرانی لگتی تھی

    پیار کے موسم کی خوشبو سے غنچہ غنچہ مہکا تھا

    مہکی مہکی دنیا ساری رات کی رانی لگتی تھی

    لمحوں کے رنگین غبارے ہاتھ سے چھوٹے جاتے تھے

    موسم دکھ کا درد کی رت سب آنی جانی لگتی تھی

    قوس قزح کی بارش میں یہ جذبوں کی منہ زور ہوا

    موج اڑاتے بل کھاتے دریا کی روانی لگتی تھی

    اب دیکھیں تو دور کہیں پر یادوں کی پھلواری میں

    رنگوں سے بھرپور فضا تھی جو لافانی لگتی تھی

    مأخذ :
    • کتاب : Koi bhi rut ho (Pg. 41)
    • Author : Farah iqbal
    • مطبع : Alhamd Publications (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY