ساری رسوائی زمانے کی گوارا کر کے

ہاشم رضا جلالپوری

ساری رسوائی زمانے کی گوارا کر کے

ہاشم رضا جلالپوری

MORE BYہاشم رضا جلالپوری

    ساری رسوائی زمانے کی گوارا کر کے

    زندگی جیتے ہیں کچھ لوگ خسارا کر کے

    اپنے اس کام پہ وہ راتوں کو روتا ہوگا

    بیچ دیتا ہے جو ذرے کو ستارہ کر کے

    غم کے مارے ہوئے ہم لوگ مگر کالج میں

    دل بہل جاتا ہے پریوں کا نظارہ کر کے

    پھر وہی جوش وہی جذبہ عطا ہوتا ہے

    تم نے دیکھا ہی نہیں پیار دوبارہ کر کے

    اپنے کردار سے دنیا کو ہلا کر رکھ دے

    ورنہ کیا فائدہ اس طرح گزارہ کر کے

    ہم سے آباد ہے یہ شعر و سخن کی محفل

    ہم تو مر جائیں گے لفظوں سے کنارہ کر کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY