سایہ جس کا نظر آتا ہے مجھے

محب عارفی

سایہ جس کا نظر آتا ہے مجھے

محب عارفی

MORE BYمحب عارفی

    سایہ جس کا نظر آتا ہے مجھے

    وہ بھی سایہ نظر آتا ہے مجھے

    وہ جو ہوتا ہی چلا جاتا ہے

    کچھ نہ ہوگا نظر آتا ہے مجھے

    چاٹ جاتی ہے نظاروں کو نظر

    کیا کہوں کیا نظر آتا ہے مجھے

    آئنہ پھاند گیا جوش جنوں

    بالکل ایسا نظر آتا ہے مجھے

    ہر لکھا خامۂ دانائی کا

    آج الٹا نظر آتا ہے مجھے

    کیا غضب ہے کہ مرا اصل وجود

    عکس میرا نظر آتا ہے مجھے

    کیا قیامت ہے کہ جاتا ہوا وقت

    ادھر آتا نظر آتا ہے مجھے

    کہیں خوشبو ہے سنائی دیتی

    کہیں نغمہ نظر آتا ہے مجھے

    بیج بس اپنے شجر ہونے کا

    اک ارادہ نظر آتا ہے مجھے

    بے مسافر ہے سفر پیش نظر

    ذہن گویا نظر آتا ہے مجھے

    ہر گماں ایک حقیقت ہے محبؔ

    سچ مچ ایسا نظر آتا ہے مجھے

    مأخذ :
    • کتاب : Funoon (Monthly) (Pg. 295)
    • Author : Ahmad Nadeem Qasmi
    • مطبع : 4 Maklood Road, Lahore (Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23)
    • اشاعت : Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY